سید علی حسینی خامنہ ای، مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند، 28 صفر 1358 هجری(19 اپریل 1939) شہرِ مقدس مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ خاندان کے دوسرے فرزند تھے۔
مرحوم سید جواد خامنہ ای کی زندگی، بہت سے علماء کی طرح، نہایت سادہ اور زاہدانہ تھی۔ آیت اللہ خامنہ ای اپنی زندگی کے اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“میرے والد، ایک معروف دینی شخصیت ہونے کے باوجود، نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ہماری زندگی بہت سخت تھی۔ مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات رات کے کھانے کے لیے ہمارے پاس صرف روٹی اور کشمش ہوتی تھی، جسے ہماری والدہ کسی نہ کسی طرح مہیا کرتیں۔”
جس گھر میں یہ خاندان رہتا تھا، وہ ایک غریب محلے میں واقع تھا:
“ہمارا گھر تقریباً پینسٹھ مربع میٹر پر مشتمل تھا، جس میں ایک ہی کمرہ اور ایک تاریک تہہ خانہ تھا۔ جب کبھی لوگ میرے والد سے دینی یا سماجی مسائل کے سلسلے میں ملنے آتے، تو خاندان کو تہہ خانے میں جانا پڑتا تھا تاکہ ملاقات مکمل ہو سکے۔ بعد میں کچھ نیک دل افراد نے ہمارے گھر کے ساتھ والی خالی زمین خرید لی، جس سے ہم دو مزید کمرے تعمیر کرنے کے قابل ہوئے۔”
ان کے والد، آیت اللہ سید جواد حسینی خامنہ ای، 7 دسمبر 1895ء مطابق 20 جمادی الثانی 1313 ہجری قمری کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور 5 جولائی 1986ء کو وفات پا گئے۔ وہ اپنے زمانے کے ممتاز علماء اور مجتہدین میں شمار ہوتے تھے جو بعد میں اپنے خاندان کے ہمراہ تبریز منتقل ہوگئے۔
سطح کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنہ 1918ء میں مشہد مقدس ہجرت کی۔ فقہ و اصول میں انہوں نے حاج آقا حسین قمی، مرزا محمد آقازادہ خراسانی المعروف بہ “کفائی”، مرزا مہدی اصفہانی اور حاج فاضل خراسانی جیسے جلیل القدر اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔فلسفہ کے میدان میں آقا بزرگ حکیم مشہدی اور شیخ اسد اللہ یزدی سے تعلیم حاصل کی۔
بعد ازاں سنہ 1927ء میں نجف اشرف گئے، جہاں انہوں نے مرزا محمد حسین نائینی، سید ابوالحسن اصفہانی اور آقا ضیاء الدین عراقی کے دروس سے استفادہ کیا۔ انہی عظیم شخصیات نے انہیں اجتہاد کی اجازت بھی عطا کی۔
پھر انہوں نے ایران واپس آنے کا فیصلہ کیا اور مشہد مقدس میں سکونت اختیار کی، جہاں زندگی کے آخری ایام تک مقیم رہے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہیں مشہد بازار کی مسجد صدیقیها (جو آذربائیجانیوں کی مسجد کے نام سے بھی معروف تھی) میں امامتِ جماعت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ مسجد گوہرشاد کے ائمہ جماعت میں بھی شامل تھے۔
وہ مطالعے اور تحقیق کے بے حد شوقین تھے۔ ان کے علمی رفقاء میں حاج مرزا حسین آبائی، حاج سید علی اکبر خوئی، حاج مرزا حبیب ملکی اور دیگر ممتاز اہلِ علم شامل تھے، جن کے ساتھ برسوں علمی مباحث اور تحقیقات جاری رہیں۔ وہ نہایت متقی، دنیاوی امور سے بے نیاز اور زاہدانہ زندگی گزارنے والے انسان تھے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی انہوں نے اپنی سادہ اور زاہدانہ زندگی کو برقرار رکھا، حالانکہ ان کے فرزند اعلیٰ سیاسی اور انتظامی عہدوں پر فائز تھے۔ اپنی اعلیٰ انسانی صفات کے باعث وہ ہمیشہ عوام کے اعتماد کا مرکز رہے۔ انہیں روضۂ مبارک امام رضا علیہ السلام کے ضریحِ مقدس کے عقب میں واقع ایک رواق میں سپردِ خاک کیا گیا۔
امام خمینیؒ نے آیت اللہ خامنہ ای کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں، آیت اللہ سید جواد خامنہ ای کو ایک “متقی اور متعہد عالمِ دین” قرار دیا تھا۔
خانم خدیجہ میردامادی 1914ء میں پیدا ہوئیں اور 1989ء میں ان کی وفات هوئی۔ وہ نہایت متقی، دیندار اور باعلم خاتون تھیں، جنہیں قرآنی آیات، احادیث، تاریخ اور ادب سے گہری واقفیت حاصل تھی۔ انہوں نے اپنے بچوں، خصوصاً آیت اللہ سید علی خامنہ ای، کا پہلوی حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں میں بھرپور ساتھ دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای اپنی والدہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
“میری والدہ نہایت دانا، تعلیم یافتہ اور بامطالعہ خاتون تھیں، جنہیں شاعری اور فنونِ لطیفہ سے بھی دلچسپی تھی۔ وہ حافظ شیرازی کے کلام سے اچھی طرح آشنا تھیں۔ البتہ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ وہ حافظ کی ماہر تھیں، بلکہ وہ ان کے اشعار کا شوق سے مطالعہ کرتی تھیں۔ انہیں قرآنِ مجید سے مکمل انس تھا اور ان کی آواز نہایت شیریں اور دلنشین تھی۔”
وہ مزید فرماتے ہیں:
“جب ہم بچے تھے تو ہم سب اپنی والدہ کے گرد بیٹھ جاتے اور وہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھ کر سناتیں۔ ان کی تلاوت نہایت خوبصورت اور پرسوز ہوتی تھی۔ مختلف مواقع پر وہ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں سے متعلق آیات کی تلاوت کرتیں۔ حضرت موسیٰ ، حضرت ابراہیم اور دیگر انبیاء کی زندگی کے بارے میں میں نے سب سے پہلے اپنی والدہ ہی سے سنا۔ جب بھی وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتیں اور انبیاء کے نام آتے تو وہ ہمیں ان کے بارے میں تفصیل سے سمجھاتیں۔”
سید علی خامنہ ای نے چار برس کی عمر میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہیں مکتب بھیجا گیا جہاں انہوں نے قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ ابتدائی تعلیم کے لیے انہوں نے مشہد کے پہلے اسلامی مدرسے “دارالتعلیم دیانتی” میں داخلہ لیا۔ اسی دوران انہوں نے مشہد کے متعدد قرّاء سے قرآنِ مجید کی تلاوت اور قرأت بھی سیکھی۔
جب وہ چھٹی جماعت میں تھے تو انہوں نے ابتدائی حوزوی تعلیم کا آغاز کیا۔ دینی علوم سے ان کی گہری دلچسپی اور والدین کی حوصلہ افزائی نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں اس علمی دنیا میں داخل ہونے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے اپنی دینی تعلیم کا سلسلہ مدرسۂ علمیہ سلیمان خان میں جاری رکھا، جبکہ بعض ابتدائی دروس اپنے والد محترم سے بھی حاصل کیے۔
بعد ازاں وہ مدرسۂ نواب میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے سطح کی تعلیم مکمل کی۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اسکول کی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھے اور ہائی اسکول کی تک اپنی عصری تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے “معالم الاصول” آیت اللہ سید جلیل حسینی سیستانی سے اور “شرحِ لمعہ” اپنے والد محترم اور مرزا احمد مدرس یزدی سے پڑھی۔ اسی طرح “رسائل”، “مکاسب” اور “کفایہ” کی تعلیم اپنے والد اور آیت اللہ حاج شیخ ہاشم قزوینی سے حاصل کی۔
سنہ 1955ء میں انہوں نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے درسِ خارج میں شرکت شروع کی۔
سنہ 1957ء میں وہ نجف اشرف گئے، جہاں انہوں نے حوزۂ علمیہ نجف کے نامور اساتذہ جیسے آیت اللہ سید محسن حکیم، سید ابوالقاسم خوئی، سید محمود شاہرودی، مرزا باقر زنجانی اور مرزا حسن بجنوردی کے دروس میں شرکت کی۔ تاہم، ان والد اس بات پر راضی نهیں تھے که وه نجف اشرف میں مزید قیام کریں لهذا آپ مشہد واپس آگئے۔
مشہد میں انہوں نے ایک سال تک آیت اللہ میلانی کے دروس سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں سنہ 1958ء میں مزید علمی ترقی اور دینی تعلیم کے شوق میں وہ حوزۂ علمیہ قم تشریف لے گئے۔ اسی سال قم روانگی سے قبل آیت اللہ محمد ہادی میلانی نے انہیں اجازتِ روایت بھی عطا کی۔
قم میں سید علی خامنہ ای نے عظیم علمی شخصیات جیسے آیت الله سید حسین بروجردی، امام خمینیؒ، حاج شیخ مرتضیٰ حائری یزدی، سید محمد محقق داماد اور علامہ طباطبائی جیسے اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔
قم میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے زیادہ تر وقت تحقیق، مطالعہ اور تدریس میں صرف کیا۔
سنہ 1964ء میں اپنے والد محترم کی بینائی کے مسائل کے باعث ان کی خدمت اور مدد کے لیے انہیں دوبارہ مشہد واپس آنا پڑا۔ مشہد واپسی کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر آیت اللہ میلانی کے دروس میں شرکت کی، جو سنہ 1970ء تک جاری رہی۔
مشہد پہنچتے ہی انہوں نے “رسائل”، “مکاسب” اور “کفایہ” جیسی کتب کی بنیاد پر فقہ و اصول کے اعلیٰ دروس کی تدریس شروع کر دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے عوام کے لیے تفسیرِ قرآن کے دروس بھی منعقد کیے۔ ان دروس میں نوجوانوں، خصوصاً طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔
اپنے دروسِ تفسیر میں آیت اللہ خامنہ ای قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں اسلامی فکر و فلسفے کے بنیادی اصول بیان کرتے تھے۔ وہ ان دروس میں انقلابی جدوجہد اور طاغوتی نظام کے خاتمے کی ضرورت پر اس قدر زور دیتے تھے کہ ان کے شاگرد اور سامعین اس نتیجے پر پہنچتے کہ ملک میں اسلامی تعلیمات پر مبنی حکومت قائم ہونی چاہیے۔
ان دروسِ تفسیر کے انعقاد کا ایک اہم مقصد اسلامی انقلاب کے اصولوں اور افکار کو معاشرے تک پہنچانا بھی تھا۔ سنہ 1968ء میں انہوں نے علماء و طلاب کے لیے اعلیٰ سطح کے دروسِ تفسیر کا آغاز کیا، جو 1987ء تک جاری رہے، البتہ ایرانشہر میں گرفتاری اور جلاوطنی کے دوران یہ سلسلہ کچھ عرصے کے لیے متاثر ہوا۔
ان کے دروسِ تفسیر ان کے دورِ صدارت کے بعد بھی جاری رہے۔
سنہ 1990ء میں انہوں نے درسِ خارج کی تدریس کا آغاز کیا، اور اس کے بعد سے وہ جہاد، قصاص، مکاسب اور نمازِ مسافر جیسے موضوعات پر فقہی دروس دیتے رہے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای شاعری اور ادب سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور انہیں ہمیشہ ناولوں اور افسانوی ادب کے مطالعے سے خاص دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے معروف ناولوں اور ادبی تخلیقات کا مطالعہ کیا ہے۔ ناولوں، عظیم ادیبوں کے ادبی آثار، اور مشرقی و مغربی اقوام کی تاریخ و ثقافت کے مطالعے کا یہ شوق آج بھی برقرار ہے۔
وہ ادبی تنقید اور شاعری سے بھی وابستہ رہے ہیں اور متعدد شعراء، ادباء اور دانشوروں سے ان قریبی تعلقات تھے۔ مشہد میں قیام کے دوران وہ ادبی نشستوں میں شرکت کرتے تھے، جہاں ممتاز شعراء موجود ہوتے تھے۔ ان محفلوں میں وہ شاعری پر تنقیدی گفتگو بھی کرتے تھے۔
آیت اللہ خامنہای نے اپنی پہلی نظم سنہ 1955ء یا 1956ء میں کہی اور حالیہ برسوں میں انہوں نے “امین” تخلص استعمال کیا ہے۔ ایک طویل عرصے تک ان کے پاس دو نوٹ بکس رہتی تھیں۔ ایک میں وہ منتخب غزلیں اور دوسری میں خوبصورت اشعار درج کیا کرتے تھے۔
تاریخی کتابوں کا مطالعہ بھی ان کی علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہا ہے، اور انہیں معاصر تاریخ کے مختلف موضوعات اور مباحث پر گہری دسترس حاصل ہے۔
آیت الله خامنه ای نے عربی ادب میں اعلیٰ ترین درجے تک مہارت حاصل کی، اور خاص طور پر نحو کی کتاب مغنی اور بلاغت کی کتاب مطول سے بے حد شغف تھا۔ مطول ان کے پسندیدہ ترین دروس میں سے ایک تھی۔ ان کے اپنے الفاظ میں:
“میں اس حصے کے موضوعات کے ساتھ جیتا تھا اور میری روح اس سے معمور ہو جاتی تھی۔ آج بھی کبھی کبھی اس کے بعض اشعار گنگناتا ہوں۔”
انہوں نے تاریخ اور تاریخِ ادب کے میدان میں عربی کی بڑی انسائیکلوپیڈیا کا مطالعہ کیا اور ہر کتاب کے پشتِ جلد پر اپنے حاشیے اور تاثرات تحریر کیے۔تاہم مجموعی طور پر جدید عربی ادب ان کی دلچسپی کو پوری طرح اپنی جانب متوجہ نہ کر سکا۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:
“اس کے بعض حصوں میں مجھے ایسی چیزیں ملیں جو عربی ذوق اور عربی زبان کے منافی تھیں۔ خصوصاً اس اسلوب کا ذکر کرنا چاہیے جو یورپی ادب کے انداز اور مواد سے متاثر ہے، جو نہ عربی ادب ہے اور نہ یورپی ادب، بلکہ ایک مسخ شدہ صورت ہے جسے ہر سلیم الفطرت اور پاکیزہ ذوق رکھنے والا رد کر دیتا ہے۔”
وہ مزید فرماتے ہیں:
“میں نے معاصر مصری، شامی اور عراقی ادباء اور شعراء کے آثار پڑھے ہیں، لیکن اپنی مطلوبہ چیز مجھے عراقی شاعر محمد مهدی الجواهری کے کلام میں ملی۔”
آیت الله خامنه ای کا قرآن سے گہرا تعلق بچپن ہی سے تھا۔ ابتدائی عمر میں اپنی والدہ کی تلاوتِ قرآن سننے کے بعد، ان کے والد نے انہیں، جب وہ ابھی پرائمری اسکول میں تھے، حاجی رمضان بنکدار کے سپرد کیا، جو مشهد کے معروف قراء میں سے تھے۔ انہوں نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ ان کے استاد نے آخرکار کہا:
“میرے پاس تمہیں سکھانے کے لیے اب کچھ نیا باقی نہیں رہا۔”
اس کے بعد وہ ملا عباس کے شاگرد بنے، جو مشہد کے سب سے بڑے قاری تھے اور سید محمد عرب زعفرانی کے شاگرد تھے، جنہیں مشہد میں علمِ قراءت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
انہی ابتدائی اسکولی برسوں میں، جب آیت الله کاشانی مشہد تشریف لائے، تو استقبالیہ تقریب میں قرآن کی تلاوت کرنے والے نوجوان سید علی خامنہ ای خود تھے۔
سن 1327 ہجری شمسی (1948–49) میں، جب ان کی عمر صرف نو سال تھی، انہوں نے آیت الله نور الدین کے استقبال کے موقع پر بھی مشهد کے خواجه اباصلت کی در گاه میں قرآن مجید کی تلاوت کی۔
آیت الله خامنه ای اپنی یادداشتوں میں فرماتے ہیں:
“قراء کی آوازیں سننے کے لیے ہم ‘صوت العرب’ ریڈیو اسٹیشن لگایا کرتے تھے۔ میرے پاس آج بھی ایک قرآن موجود ہے جس کے پچھلے حصے پر میں نے لکھا ہے: ‘آج مصطفی اسماعیل نے تلاوت کی’، ‘آج علی البنا نے تلاوت کی’۔ ہم بڑی مشکل سے ریڈیو قاہرہ پکڑتے تھے۔ ہمارے ایک جاننے والے مصر گئے تھے اور وہاں سے ایک دو کیسٹیں لے آئے تھے۔”
اسی انہماک کے ساتھ سننے کے ذریعے وہ راغب مصطفیٰ کی آواز سے بھی آشنا ہوئے۔ سن 1346 یا 1347 ہجری شمسی (1967–1968) کے دوران، مشهدمیں رہتے ہوئے، وہ عرب ممالک کے ریڈیو اسٹیشنز—خصوصاً ریڈیو مصر—پر شیخ مصطفی اسماعیل کی تلاوتیں تلاش کرتے تھے۔
رفتہ رفتہ سید علی خامنہ ای اور ان کے دوستوں کو قرآنی تلاوتوں کی ریکارڈنگز دستیاب ہوئیں اور وہ نئے قراء سے بھی متعارف ہوتے گئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے گھرانے میں موجود سیاسی و دینی سرگرمیوں نے انہیں بعد کی زندگی میں سیاسی و مذہبی فعالیت کے لیے تیار کیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد میں داخلے کا آغاز اُس وقت ہوا جب نوجوان طالبِ علم کی حیثیت سے مشہد میں ان کی ملاقات معروف اسلامی انقلابی سید مجتبیٰ نواب صفوی (میرلوحی) سے ہوئی۔ جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں، اس ملاقات نے ان کے اندر انقلاب کی پہلی چنگاری روشن کی۔
امام خمینیؒ سے ان کی پہلی ملاقات سن 1957-58 میں ہوئی، اور ریاستی انجمنوں کے بل کی منظوری سے متعلق واقعات کے دوران وہ امام خمینیؒ کے سیاسی پہلو سے آشنا ہوئے ۔
آیت اللہ خامنہ ای نے سن 1963 میں طاغوت کے خلاف جدوجہد کے مختلف میدانوں میں قدم رکھا۔ وہ اُن اولین شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے 5 جون 1963( 15 خرداد 1342 )کی تحریک سے پہلے ہی انقلابی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔
فروری 1963میں ریاستی انجمنوں کے بل سے متعلق ریفرنڈم کے بعد، آیت اللہ خامنہ ای اور اُن کے بھائی سید محمد کو آیت اللہ محمد ہادی میلانی کی رپورٹ امام خمینیؒ تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ رپورٹ اس ریفرنڈم کے خلاف مشهد کے عوام کے ردِعمل کے بارے میں تھی۔
سن 1963 میں جب ماہِ محرم قریب آیا تو امام خمینیؒ نے آیت اللہ خامنہ ای کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ آیت اللہ میلانی، علمائے کرام، طلابِ دینیہ اور خراسان کے مذہبی حلقوں تک پیغامات پہنچائیں تاکہ تحریک کو جاری رکھا جائے اور عوام کو پہلوی حکومت کے پروپیگنڈے سے آگاہ کیا جا سکے۔
ان پیغامات میں امام خمینیؒ نے چند اہم ہدایات بیان فرمائی تھیں۔ انہوں نے علما اور خطباء سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ محرم کی ساتویں تاریخ سے مدرسۂ فیضیہ کے قتلِ عام کے واقعات بیان کریں تاکہ پہلوی حکومت کے جرائم کو عوام کے سامنے آشکار کیا جا سکے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینیؒ کی غیر موجودگی میں — جب آپ نظر بند تھے — اسلامی تحریک کو جاری رکھنے کے مقصد سے آیت اللہ میلانی کے گھر میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
کچھ ہی عرصے بعد وہ حوزۂ علمیہ قم واپس لوٹ آئے اور چند انقلابی کارکنوں کے تعاون سے سیاسی سرگرمیوں کو منظم کیا۔ یہ سرگرمیاں مختلف نشستوں اور عوامی مہمات کی صورت میں انجام پاتی تھیں۔
وہ اُن علمائے کرام میں شامل تھے جنہوں نے آیت اللہ سید محمود طالقانی، مہدی بازرگان اور یداللہ سحابی کی حمایت میں تار بھیجا، جنہیں امام خمینیؒ کی حمایت کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی دوران اور آیت اللہ خامنہ ای کی رہنمائی میں، حوزۂ علمیہ قم کے خراسانی علما نے اُس وقت کے وزیرِاعظم حسن علی منصور کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے امام خمینیؒ کی گرفتاری پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ اس خط کے لکھنے والوں میں خود آیت اللہ خامنہ ای، ابوالقاسم خزعلی اور محمد آبائی خراسانی شامل تھے
جنوری 1964 میں، جو رمضان المبارک کے ایام سے مصادف تھا، سید علی خامنہ ای اسلامی تحریک کے اصولوں کی تبلیغ و تشریح کے لیے صوبۂ سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان گئے۔ زاہدان کی مساجد میں ان کی تقاریر اور ان کا غیر معمولی عوامی استقبال کی وجه سے حکومت نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ انہیں قزل قلعہ جیل منتقل کیا گیا، جو اُس زمانے میں سیاسی قیدیوں کو رکھنے کے لیے مخصوص تھی۔
4 مارچ 1964 کو انہیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ تہران سے باہر نہیں جائیں گے۔ اُس وقت سے لے کر اسلامی انقلاب کی کامیابی تک ان کی سرگرمیاں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی مستقل نگرانی میں رہیں۔
1964 کے موسمِ خزاں میں آیت اللہ خامنہ ای قم سے مشہد واپس آئے، جہاں انہوں نے اپنے والد کی خدمت و دیکھ بھال کے ساتھ علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ اُن علما میں شامل تھے جنہوں نے 8 فروری 1965 کو اُس وقت کی عبوری حکومت — امیر عباس ہویدا کی حکومت — کو ایک خط لکھا، جس میں ملک کی تباہ کن صورتحال اور امام خمینیؒ کی جلاوطنی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
سید علی خامنہ ای، عبدالرحیم ربانی شیرازی، علی فیض مشکینی، ابراہیم امینی، مہدی حائری تہرانی، حسین علی منتظری، احمد آذری قمی، علی قدوسی، اکبر ہاشمی رفسنجانی، سید محمد خامنہ ای اور محمد تقی مصباح یزدی اُن گیارہ افراد پر مشتمل گروہ کے ارکان تھے، جو قم کے حوزۂ علمیہ کو مضبوط اور اصلاح کرنے نیز پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ جدوجہد نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر استوار تھی، اور اسی وجہ سے یہ بتدریج وسعت اختیار کرتی گئی۔ علما کو اس تحریک کی فکری قیادت حاصل تھی۔ تحریک کے اس مرحلے میں وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ تنظیم کے بغیر کامیابی ممکن نہیں، اور ایک منظم تنظیم کی موجودگی ہی تحریک کو حکومتی جبر و استبداد سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
امام خمینیؒ کی جلاوطنی کے دوران اس گروہ نے انقلابی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی۔ یہ گروہ حوزۂ علمیہ قم کی ابتدائی خفیہ تنظیموں میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم 1966 کے اواخر میں ساواک نے اس کی سرگرمیوں کا سراغ لگا لیا۔ اس انکشاف کے بعد بعض اراکین گرفتار کر لیے گئے، جبکہ چند دیگر — جن میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شامل تھے — ساواک کی نگرانی اور تعاقب میں آ گئے۔
اسی گروہ کے ساتھ ساتھ ایک تنظیم بھی قائم ہوئی جسے **“جامعۂ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم”** کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان نشستوں اور ان میں کیے گئے فیصلوں نے حوزۂ علمیہ قم کے ماحول میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے والے صرف انجمن کے اراکین نہیں تھے، بلکہ پرجوش اور باصلاحیت نوجوان علما بھی اس جدوجہد میں سرگرم تھے۔ ان سرگرمیوں نے قم کے محدود اور جامد ماحول کو کھول دیا اور وہاں فکری و انقلابی تحرک کو فروغ بخشا۔
اسی دوران آیت اللہ خامنہ ای نے خفیہ طور پر “اسلامی سرزمینوں میں مستقبل” نامی کتاب کے ترجمے اور اشاعت میں حصہ لیا۔ اس کتاب میں دو اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی تھی: مغربی دباؤ اور کمیونسٹ پروپیگنڈا۔ نیز اس میں اسلامی مستقبل کے ایک جامع تصور کو پیش کیا گیا تھا۔
ساواک نے اس کتاب کی اشاعت کو روکنے کی کوشش کی اور اُن افراد کو گرفتار کر لیا جو اس کی طباعت و اشاعت میں شریک تھے، تاہم وہ آیت اللہ خامنہ ای کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، جنہوں نے اس کتاب کا ترجمہ کیا تھا۔
1967ء میں مسجدِ گوہرشاد میں حکومت مخالف تقریر کے باعث سید حسن قمی کی گرفتاری کے بعد، علی خامنہ ای نے آیت اللہ میلانی کو اس گرفتاری کے خلاف احتجاج پر آمادہ کیا۔ بعد ازاں ساواک نے انہیں مشہد میں آیت اللہ شیخ مجتبیٰ قزوینی کے جنازے کے موقع پر گرفتار کر لیا۔ رہائی کے بعد بھی انہوں نے سیاسی قیدیوں سے روابط برقرار رکھے اور انقلابی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں سرگرم رہے۔
ایران بھر کے انقلابی کارکنوں کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے آیت اللہ خامنہ ای نے مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے، نوجوان انقلابیوں کی فکری تربیت کرنے، اور قرآن، احادیث اور امام روح اللہ خمینیؒ کی تحریک پر مبنی اسلامی فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مارکسی، لبرل اور مادّہ پرستانہ نظریات کی مخالفت کی اور پہلوی حکومت کے شدید دباؤ کے باوجود انقلابی نیٹ ورک کو وسعت دی۔
1968ء میں جنوبی خراسان میں آنے والے زلزلے کے بعد، آیت اللہ خامنہ ای علما کے ایک قافلے کی قیادت کرتے ہوئے فردوس پہنچے تاکہ زلزلہ متاثرین کی مدد اور امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔ اپنے دو ماہ کے قیام کے دوران انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے اور اجتماعات و مذہبی نشستوں کے ذریعے اسلامی تحریک کے پیغام کو عام کیا۔
ان سرگرمیوں نے ساواک کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جس کے نتیجے میں انہیں فردوس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بعد ازاں عراق جا کر نجف میں امام خمینیؒ سے ملاقات کی ان کی کوشش بھی ساواک نے ناکام بنا دی، اور اسلامی انقلاب کی کامیابی تک ان پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد رہی۔
“گیارہ افراد کی نشست” میں شرکت کے سبب علی خامنہ ای کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ جب یہ فیصلہ روزنامہ کیہان میں شائع ہوا تو انہوں نے مشہد کے علما سے مشاورت کے بعد اپیل عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ حکومتی دباؤ کے باوجود انہوں نے ممتاز انقلابی علما، جیسے محمود طالقانی، محمد رضا سعیدی، محمد جواد باہنر، محمد رضا مهدوی کنی، مرتضیٰ مطہری، اکبر ہاشمی رفسنجانی اور فضل اللہ محلاتی کے ساتھ اپنے قریبی روابط برقرار رکھے۔
اگرچہ ان کی بنیادی سرگرمیوں کا مرکز مشہد تھا، لیکن وہ تہران میں ہونے والی انقلابی نشستوں میں بھی بھرپور شرکت کرتے تھے، جہاں مشہد کے اطراف کے دیہات میں علما کو بھیجنے کے منصوبے مرتب کیے جاتے تھے۔ انہوں نے تفسیرِ قرآن کی کلاسوں، دروس، تقاریر اور عوامی خطابات کے ذریعے دینی شعور بیدار کرنے اور اسلامی تحریک کو فکری و ثقافتی بنیادوں پر مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ آیت اللہ خامنہ ای کا یقین تھا کہ اسلامی اہداف صرف فکری اور ثقافتی ارتقا کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
1969ء میں انہوں نے اسلامی دانشوروں اور انقلابی کارکنوں کے ساتھ ایسی نشستوں کا بھی اہتمام کیا، جن کا مقصد جامعات میں مارکسی رجحان رکھنے والی سیاسی تحریکوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔
علی خامنہ ای کے متعدد اسلامی دانشوروں اور اہم انقلابی و دینی مراکز کے ساتھ قریبی روابط تھے، اور وہ ان کے ساتھ فعال تعاون کرتے تھے۔ انہیں تہران کے اہم مذہبی و سیاسی مراکز، خصوصاً حسینیۂ ارشاد اور مسجدِ الجواد، میں اسلامی جدوجہد کے موضوع پر خطابات کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔
1969ء کے اواخر میں شہید مرتضیٰ مطہری کی دعوت پر حسینیۂ ارشاد میں ان کی تقاریر، اور اسلامی انجمنِ انجینئرز کے زیرِ اہتمام مسجدِ الجواد میں ان کے دروس و خطابات نے نوجوان نسل، بالخصوص یونیورسٹی اور ہائی اسکول کے طلبہ، میں سیاسی اور دینی شعور بیدار کرنے میں گہرا اثر چھوڑا۔
1970ء کے موسمِ بہار میں علی خامنہ ای نے ایسی نشستوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا جن کا مقصد پہلوی حکومت کے خلاف اسلامی تحریک کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنانا تھا۔ ان نشستوں میں اسلامی نظریۂ حیات اور اسلامی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر جدوجہد کی حکمتِ عملی پر گفتگو کی جاتی تھی۔
ان مباحث میں مرتضیٰ مطہری، محمود طالقانی، مہدی بازرگان، اکبر ہاشمی رفسنجانی، ید اللہ سحابی، عباس شیبانی اور کاظم سامی جیسی ممتاز شخصیات شریک ہوتی تھیں۔ ان نشستوں نے اسلامی نظریے اور اسلامی جہان بینی سے متعلق تصورات کو نکھارنے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
1970ء میں آیت اللہ محسن حکیم کے انتقال کے بعد معاشرے میں مرجعِ تقلید کے انتخاب کا مسئلہ ایک اہم موضوع بن گیا۔ علی خامنہ ای نے آیت اللہ حکیم کے علمی مقام و مرتبے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امام روح اللہ خمینیؒ کو مرجعِ تقلیدِ اعظم کے طور پر متعارف کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔
جون 1970ء میں محمد رضا سعیدی کی ساواک کے ہاتھوں شہادت کے بعد، آیت اللہ خامنہ ای نے عوامی غم و غصے کو امام خمینیؒ کی حمایت اور حکومت مخالف جدوجہد کی سمت موڑنے کی کوشش کی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں حوزۂ علمیہ کے طلبہ اور علما نے ساواک کے خلاف اور اسلامی تحریک کی حمایت میں پمفلٹس تقسیم کیے۔
ان سرگرمیوں کے باعث ساواک نے اکتوبر 1970ء میں انہیں مشہد میں گرفتار کر کے لشکرِ خراسان جیل میں قید کر دیا۔
رہائی کے بعد بھی انہوں نے اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اسی سال محرم کے دوران، ساواک کی جانب سے عوامی خطابات پر پابندی کے باوجود، انہوں نے تہران کی ہیئتِ انصارُ الحسین میں تقاریر کیں۔
1971ء میں محمود طالقانی کی دعوت پر انہوں نے تہران کی مسجدِ ہدایت میں بھی دروس و خطابات دیے، جو اُس زمانے میں طلبہ اور نوجوانوں کی توجہ کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی تھی۔
امام خمینیؒ کی جانب سے پہلوی حکومت کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی 2500 سالہ شاہی تقریبات کو حرام قرار دینے اور ان کی شدید مذمت کے بعد، ساواک نے انقلابی علما کی سرگرمیوں کے خلاف نہایت سخت اقدامات شروع کر دیے۔ چنانچہ علی خامنہ ای کو اگست 1971ء میں مشہد کے ساواک دفتر طلب کیا گیا اور کچھ مدت کے لیے لشکرِ خراسان جیل میں قید رکھا گیا۔
رہائی کے بعد بھی انہوں نے اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں اسی سال انہیں مزید دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ پہلی گرفتاری اکتوبر–نومبر 1971ء میں عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں مختصر مدت کے لیے لشکرِ خراسان جیل میں رکھا گیا۔ دوسری گرفتاری دسمبر 1971ء کو ہوئی، اور اس مرتبہ انہیں قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں تین ماہ قید کی سزا دی گئی۔
رہائی کے بعد علی خامنہ ای نے اپنی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی۔ وہ تہران میں ہیئتِ انصارُ الحسین اور مسجدِ نارمک میں منعقد ہونے والی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے، جہاں وہ دینی اور سیاسی موضوعات پر خطابات کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مشہد میں مدرسۂ مرزا جعفر، مسجدِ امام حسنؑ، مسجدِ قبلہ اور اپنے گھر میں تفسیرِ قرآن کے دروس بھی جاری رکھے۔
ان اجتماعات میں یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے طلبہ، نوجوان علما، اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوتے تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای ان نشستوں کے ذریعے انہیں انقلابی اور سیاسی اسلام کے نظریات اور فلسفے سے آشنا کرتے تھے۔ بعد میں انہی اجتماعات کے بہت سے شرکا اور شاگرد اسلامی انقلاب کے عروج کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں عوامی شعور بیدار کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنے لگے۔
ساواک کے اہلکار آیت اللہ خامنہ ای کی تقاریر اور دروس کے بارے میں متعدد رپورٹس تیار کرتے تھے۔ ساواک کے نقطۂ نظر سے آیت اللہ خامنہ ای جیسی شخصیات حوزۂ علمیہ کے فکری اور انقلابی اساتذہ میں شمار ہوتی تھیں۔ ساواک کا خیال تھا کہ یہ افراد طلبۂ علومِ دینی، علما، اور نوجوانوں میں سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ اور نئی نسل کے ساتھ قریبی روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مارچ–اپریل 1973ء میں علی خامنہ ای انقلابی افکار کی ترویج کے لیے نیشاپور گئے۔ وہاں کی مساجد میں انہوں نے اصولِ فقہ کے دروس دیے، اور ان کی کلاسیں ہر ہفتے جمعرات کے روز منعقد ہوتی تھیں۔ مئی–جون 1973ء میں ساواک نے مسجدِ امام حسنؑ اور ان کے گھر میں ہونے والی تفسیرِ قرآن کی کلاسوں کو جاری رکھنے سے روک دیا۔
نومبر–دسمبر 1973ء میں آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز مسجدِ کرامت کو بنایا، جہاں انہوں نے بانیٔ مسجد کی دعوت پر نمازِ جماعت کی امامت سنبھالی اور تفسیرِ قرآن کے دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اس مسجد کو طلبہ اور نوجوان علما کی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز بنا دیا۔ ان کی وسیع سیاسی و انقلابی سرگرمیوں کے باعث ساواکِ مشہد نے انہیں مسجد میں نمازِ جماعت کی امامت سے بھی منع کر دیا۔
علی خامنہ ای اگست 1975ء کو رہا ہوئے، تاہم اس کے بعد بھی وہ خفیہ اداروں کی کڑی نگرانی میں رہے۔ انہیں نمازِ جماعت کی امامت، خطابات، تدریس، اور حتیٰ کہ اپنے گھر میں تفسیرِ قرآن کی کلاسیں منعقد کرنے سے بھی منع کر دیا گیا تھا۔
ان سیاسی اور سکیورٹی پابندیوں کے باوجود انہوں نے خفیہ طور پر تفسیرِ قرآن کے دروس، فکری و انقلابی سرگرمیوں اور اسلامی تحریک سے وابستہ کاموں کو جاری رکھا۔ اسی طرح وہ امام خمینیؒ کی جانب سے علما اور دینی شخصیات تک مالی امداد پہنچانے کا سلسلہ بھی برقرار رکھے ہوئے تھے۔
1976ء کے اواخر میں علی خامنہ ای نے خفیہ طور پر “قرآن میں اسلامی فکر” کے عنوان سے اپنی کتاب “سید علی حسینی” کے قلمی نام سے شائع کی۔
اسی دوران قوچان میں آنے والے سیلاب کے بعد انہوں نے شہر کے مدرسۂ اوزیہ میں ایک امدادی گروہ تشکیل دیا، جس کا مقصد متاثرین کی مدد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو منظم کرنا تھا ۔
ساواک کی دستاویزات کے مطابق 1976ء–1977ء کے اواخر میں علی خامنہ ای اور ان کے والد کی سرگرمیوں سے متعلق متعدد رپورٹس موجود ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امام روح اللہ خمینیؒ کی حمایت اور اسلامی تحریک کے فروغ میں سرگرم تھے۔
دسمبر 1976ء – جنوری 1977ء کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کئی خطابات کیے۔ اسی عرصے میں انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں کے لیے ایسی نشستوں کا اہتمام بھی کیا جن میں معاشرے کی فکری اور ثقافتی صورتحال پر گفتگو کی جاتی تھی، جبکہ تہران میں علما اور طلبۂ علومِ دینی کے اجتماعات میں بھی فعال شرکت کی۔
جون 1977ء کو لندن میں ڈاکٹر علی شریعتی کے انتقال کے بعد، آیت اللہ خامنہ ای نے ان کی مجلسِ یادبود میں شرکت کی۔ وہ ڈاکٹر شریعتی اور ان کے والد سے اپنی جوانی کے زمانے سے، مشہد میں قیام کے دوران، قریبی شناسائی رکھتے تھے۔
1 اکتوبر 1977ء کو نجف میں امام روح اللہ خمینیؒ کے بڑے فرزند آیت اللہ سید مصطفیٰ خمینی کی شہادت کے بعد، علی خامنہ ای نے چند انقلابی کارکنوں کے ہمراہ مسجدِ ملا ہاشم میں ایک مجلسِ یادبود کا اہتمام کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے مشہد کے متعدد علما کے ساتھ مل کر نجف میں امام خمینیؒ کے نام ایک تعزیتی ٹیلیگرام بھی ارسال کیا۔ آیت اللہ سید مصطفیٰ خمینی کی شہادت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات اسلامی تحریک کے آخری مرحلے کے آغاز کی علامت ثابت ہوئے، جس دوران انقلابی سرگرمیوں اور عوامی حمایت میں نمایاں شدت آ گئی۔
ان سرگرمیوں کے ردِعمل میں پہلوی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دیں، حالانکہ اس سے قبل وہ معاشرے میں سیاسی آزادی اور کھلے ماحول کے دعوے کرتی رہی تھی۔ اسی پالیسی کے تحت متعدد نمایاں انقلابی شخصیات کو جلاوطن کیا گیا، اور علی خامنہ ای بھی انہی افراد میں شامل تھے۔
خراسان کی پبلک سکیورٹی کمیٹی نے انہیں صوبۂ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں تین سالہ جلاوطنی کی سزا سنائی۔ دسمبر 1977ء کو ساواک کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، انہیں گرفتار کیا، اور ایرانشہر منتقل کر دیا۔
اس اقدام کا مقصد انہیں عوام اور انقلابی کارکنوں سے جدا کرنا تھا، تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے سے باز رہیں۔
تاہم اشتہار گاؤں کی مقامی اہلِ سنت آبادی کے ساتھ اپنے مثبت اور خوشگوار روابط کے ذریعے علی خامنہ ای نے ایرانشہر کے عوام میں خاص مقبولیت حاصل کر لی۔ انہوں نے ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک بھی اسلامی انقلاب کا پیغام پہنچایا۔
ایرانشہر کی مسجدِ آلِ رسول میں ان کے خطابات، نیز ان کے گھر پر انقلابی علما، طلبۂ علومِ دینی، سیاسی کارکنوں اور مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی مسلسل آمد و رفت کے باعث خفیہ اداروں نے ان کی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دیں اور لوگوں کو ان سے ملاقات کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
8اپریل 1978ء کو یزد میں پہلوی حکومت کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عوام کے قتلِ عام کے بعد، علی خامنہ ای نے یزد کے امامِ جمعہ آیت اللہ محمد صدوقی کے نام ایک خط تحریر کیا۔ اس خط میں انہوں نے اس ظالمانہ اقدام کی شدید مذمت کی، عوام کو اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی ترغیب دی، اور اس سانحے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بعد ازاں یہ خط ایک منشور کی صورت میں پورے ملک میں پھیل گیا اور انقلابی تحریک کی حمایت میں جاری ہونے والے مؤثر اور اثر انگیز بیانات میں شمار ہونے لگا۔
1جولائی 1978ء کو جب ایرانشہر میں شدید سیلاب آیا تو علی خامنہ ای نے امدادی اور نجاتی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے اپنے سابقہ تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر میں سرگرم واحد امدادی گروہ کی قیادت کی۔ انہوں نے یزد، مشہد اور دیگر شہروں کے علما کے تعاون سے امدادی عطیات جمع کیے اور انہیں سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا۔
اپنی جلاوطنی کے دوران بھی آیت اللہ خامنہ ای ایران کے مختلف علاقوں کے ممتاز انقلابی کارکنوں اور علما کے ساتھ قریبی روابط میں رہے۔ وہ اسلامی تحریک کے حوالے سے باقاعدگی کے ساتھ ان سے خط و کتابت کرتے تھے، جس کے ذریعے انہیں اہم حالات و واقعات سے باخبر رہنے کا موقع ملتا تھا۔ انہی خطوط کے ذریعے وہ علما کے اجتماعی فیصلوں میں بھی شریک رہتے تھے۔
جولائی 1978ء میں جب اسلامی انقلاب کی تحریک شدت اختیار کر رہی تھی، تو حوزۂ علمیہ مشہد کے متعدد علما نے علی خامنہ ای کی مسلسل جلاوطنی کی مخالفت کرتے ہوئے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ تاہم ایرانشہر میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور انقلابی سرگرمیوں کے باعث خفیہ اداروں نے 13 اگست 1978 کو ان کی جلاوطنی کو صوبۂ کرمان کے شہر جیرفت منتقل کر دیا۔
جیرفت میں نسبتاً سخت حالات کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای نے شہر کی جامع مسجد میں پہلوی حکومت کے خلاف اپنے خطابات کا سلسلہ جاری رکھا۔ ستمبر 1978 ان کی ایک تقریر عوامی مظاہروں اور انقلابی نعروں کا سبب بنی۔ اسی دوران انہوں نے دیگر علما کے ہمراہ عبدال حسین دستغیب کے نام ایک خط بھی تحریر کیا، جس میں اسلامی تحریک کو جاری رکھنے اور حکومت کے جرائم کی مذمت پر زور دیا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ خفیہ طور پر کہنوج گئے، جہاں انہوں نے حکومت مخالف تقاریر کا سلسلہ جاری رکھا۔
جب اسلامی انقلاب کی تحریک شدت اختیار کرنے لگی اور پہلوی حکومت عوامی تحریک پر اپنا کنٹرول کھونے لگی، تو علی خامنہ ای 23ستمبر 1978ء کو مشہد واپس آ گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے انقلابی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور حکومت مخالف تحریک کو مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
امام روح اللہ خمینیؒ کے فرانس میں قیام کے دوران، علی خامنہ ای نے مشہد کے چند انقلابی علما کے ہمراہ ان کے نام ایک ٹیلیگرام ارسال کیا، جس میں فرانس میں ان کی موجودگی کو ایران کے عوام کے لیے امید، عزم اور حوصلے کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔
اس ٹیلیگرام میں انہوں نے امام خمینیؒ سے درخواست کی کہ وہ حکومت کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے اور اپنی ایران واپسی کے لیے حالات کو ہموار کرنے کے سلسلے میں ضروری ہدایات جاری فرمائیں۔
مختصر عرصے میں مشہد میں آیت الله علی خامنہ ای کی انقلابی سرگرمیوں میں نمایاں شدت آ گئی۔ عوامی جلسوں اور مظاہروں کے انعقاد کے علاوہ، وہ پہلوی حکومت کے خلاف تقاریر کرتے اور امام روح اللہ خمینیؒ کے خاندان اور دیگر انقلابی کارکنوں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھتے تھے۔
انہی روابط کے نتیجے میں 1نومبر 1978ء کو احمد خمینی نے پیرس سے محمد صدوقی کو فون کیا اور امام خمینیؒ کی جانب سے ان سے اور آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔
علی خامنہ ای اُن علما میں شامل تھے جنہوں نے مشہد کے سعد آباد اسٹیڈیم میں ثقافتی شخصیات اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں امام روح اللہ خمینیؒ کی وطن واپسی اور اسلامی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔
نومبر 1978ء کے آخری ایام میں وہ عبدالکریم ہاشمی نژاد کے ہمراہ قوچان، شیروان اور بجنورد گئے، جہاں انہوں نے انقلاب کو آگے بڑھانے کے مقصد سے مختلف خطابات کیے۔
مشہد میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور انقلابی سرگرمیوں کے باعث پہلوی حکومت کے خفیہ اداروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ساواک کی رپورٹس میں آیت اللہ خامنہ ای کو خراسان میں انقلاب کی نمایاں اور مؤثر شخصیات میں شمار کیا گیا تھا۔
1978ء کے عاشورا کے دن علی خامنہ ای نے مشہد میں عوام کے بڑے اجتماعات سے پُرجوش خطابات کیے۔ انہوں نے امام روح اللہ خمینیؒ کی نمائندگی میں شبِ عاشورا کا خطاب بھی کیا۔ اس انقلابی اقدام کے ذریعے انہوں نے پہلوی حکومت کی مسلط کردہ اُس طویل روایت کو توڑ دیا، جس کے تحت یہ مراسم رسمی انداز میں منعقد کیے جاتے تھے اور ان میں محمد رضا پہلوی کے لیے دعائیں کی جاتی تھیں۔
مزید برآں، انہوں نے مشہد میں عظیم عاشورا ریلی کے انعقاد میں مرکزی کردار ادا کیا اور وہاں خطاب بھی کیا۔ وہ اُن علما میں بھی شامل تھے جنہوں نے شاہ رضا ہسپتال (موجودہ امام رضاؑ ہسپتال) پر پہلوی حکومت کے اہلکاروں کے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی تجویز پیش کی۔
جب علما احتجاجی جلوس کی جانب روانہ ہوئے تو بڑی تعداد میں عوام بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ مظاہرین نے ایک منشور جاری کیا جس میں پہلوی حکومت کے اہلکاروں کے جرائم کی مذمت، مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ، پہلوی حکومت کے خاتمے، اور امام خمینیؒ کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ ان اقدامات کے ملک بھر میں وسیع اثرات مرتب ہوئے، اور تحریک کی حمایت میں بے شمار پمفلٹس اور بیانات شائع کیے گئے۔
30 دسمبر 1978ء کو علی خامنہ ای اور مشہد کے چند انقلابی علما نے عوام کے ایک بڑے اجتماع کی قیادت کرتے ہوئے صوبائی گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کیا، تاکہ خراسان کے سرکاری اہلکاروں اور ملازمین کو انقلاب میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔ تاہم اجتماع کے پُرامن ہونے کے باوجود عمارت کے اندر موجود پولیس فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔
اس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے شہر کی سڑکوں تک پھیل گئے اور بدامنی کی ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس میں متعدد سرکاری عمارتوں اور مراکز کو آگ لگا دی گئی۔ اسی رات مشہد کے علما، جن میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شامل تھے، نے مذاکرات اور نشستوں کے ذریعے مزید خونریزی کو روکنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود پہلوی حکومت کے اہلکاروں نے وہ قتلِ عام انجام دیا جو “10 دی 1357 کا خونی اتوار” (31 دسمبر 1978)کے نام سے معروف ہوا۔
اس واقعے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای اور مشہد کے دیگر علما نے ایک مشترکہ منشور جاری کیا، جس میں اس قتلِ عام کی شدید مذمت کی گئی اور انقلابی تحریک کو جاری رکھنے کی اپیل کی گئی۔
جب پہلوی حکومت کے زوال کا عمل تیز ہونے لگا اور اسلامی تحریک کی حتمی کامیابی کے آثار نمایاں ہو گئے، تو امام روح اللہ خمینیؒ نے 12جنوری 1979ء کو شورائے انقلابِ اسلامی کے قیام کا حکم صادر فرمایا۔ علی خامنہ ای کو اس شورا کے اراکین میں شامل کیا گیا، اور وہ جنوری 1979 کے اواخر میں مشہد — جہاں وہ انقلابی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے — سے تہران روانہ ہو گئے۔
انہوں نے رفاہ اسکول میں قیام کیا اور محمد بہشتی، مرتضیٰ مطہری اور محمد مفتح جیسی انقلابی شخصیات کے ساتھ مل کر اسلامی انقلاب کے آخری مرحلے کی تنظیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کیا۔
جب شورائے انقلابِ اسلامی کی جانب سے امام خمینیؒ کے استقبال کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تو آیت اللہ خامنہ ای کو اس کی تشہیر و تبلیغ کمیٹی کی ذمہ داری سونپی گئی۔
تہران یونیورسٹی کی مسجد میں دھرنا
جب شاہ کے مقرر کردہ وزیرِاعظم شاپور بختیار کے حکم پر ایران کے ہوائی اڈے بند کر دیے گئے تاکہ امام روح اللہ خمینیؒ کی وطن واپسی کو روکا جا سکے، تو علی خامنہ ای نے محمد بہشتی اور دیگر ممتاز انقلابی علما کے ہمراہ اس فیصلے کے خلاف جامعہ تہران کی مسجد میں ایک بڑے دھرنے کا اہتمام کیا۔ جیسے جیسے مزید علما، اساتذہ، دانشور اور عوام اس احتجاج میں شریک ہوتے گئے، دھرنا وسیع تر ہوتا چلا گیا۔
دھرنے سے ایک رات قبل آیت اللہ بہشتی نے بہشتِ زہرا میں خطاب کیا، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای نے وہ قرارداد مجمع کے سامنے پڑھی جو انہوں نے خود تحریر کی تھی۔ یہی اجتماع اگلے دن جامعہ تہران کی مسجد میں دھرنے کے انعقاد کی بنیاد بنا۔
اس احتجاج کے دوران آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر علما نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن میں تقاریر، منشورات کا اجرا، اور “دھرنا” کے عنوان سے ایک پمفلٹ کی اشاعت شامل تھی۔
28جنوری 1979ء کو ایک منشور جاری کرتے ہوئے مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک دھرنا جاری رکھیں گے جب تک ہوائی اڈے دوبارہ نہ کھول دیے جائیں اور امام روح اللہ خمینیؒ کو ایران واپس آنے کی اجازت نہ مل جائے۔ یہ دھرنا یکم فروری کی صبح تک جاری رہا اور تہران یونیورسٹی کی مسجد کو انقلابی سرگرمیوں کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر دیا۔
1 فروری 1979ء کو امام خمینیؒ کی تاریخی وطن واپسی کے موقع پر علی خامنہ ای متعدد علما اور انقلابی کارکنوں کے ہمراہ مہرآباد ہوائی اڈے پہنچے تاکہ ان کا استقبال کر سکیں۔ اس کے بعد کے دس دنوں میں آیت اللہ خامنہ ای مسلسل امام خمینیؒ کے قریب رہے اور مختلف امور میں انہیں مشورے اور تعاون فراہم کرتے رہے۔
انہوں نے امام خمینیؒ کی تشہیر و تبلیغ کمیٹی کی ذمہ داری بھی قبول کی، تاکہ اندرون و بیرونِ ملک مخالف عناصر، موقع پرست جماعتوں، اور مختلف سیاسی گروہوں کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے “امام” جیسے پمفلٹس کی اشاعت میں بھی کردار ادا کیا، جن کے لیے انہوں نے خود متعدد مضامین تحریر اور شائع کیے۔