🏠

آیت الله
سید مجتبی حسینی خامنه ای

مقدمه

آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای کے فرزند اور اسلامی جمہوریه ایران کے تیسرے رهبر ہیں جن کا شمار عالمِ اسلام کی ممتاز علمی، حوزوی اور ثقافتی شخصیات میں هوتا هے۔ آپ نے زندگی کے ابتدائی ایام سے ایسے خانوادے میں پرورش پائی جو علم، تقویٰ، مجاہدت اور اسلام کی خدمت سے آراستہ تھا، اور اپنے عظیم والد کی تربیت و رہنمائی میں علم حاصل کرنے، تزکیۂ نفس اور دینی خدمات کی راہ اختیار کی۔
دینی مدارس میں مسلسل علمی سرگرمی، تدریس، تحقیق اور طلبا کی تربیت سے گہری دلچسبی، نیز اسلامی انقلاب کے اقدار و اصول سے پختہ وابستگی، آپ کی زندگی کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
یہ صفحہ حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی حیات، علمی خدمات، ثقافتی و سماجی سرگرمیوں اور آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا تعارف پیش کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے، تاکہ قارئین آپ کی زندگی، افکار اور خدمات سے بہتر طور پر آشنا ہو سکیں۔

کودکی

بچپن

حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی (دامت برکاتہ)، امامِ مجاہد شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے دوسرے فرزند ہیں۔ آپ 1969 میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔ آپ کا بچپن 1978 تک مشہد مقدس ہی میں گزرا۔


خانواده

والد اور دادا

آپ کے دادا 7 دسمبر 1895ء کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور 5 جولائی 1986ء کو وفات پا گئے۔ وہ اپنے زمانے کے ممتاز علماء اور مجتہدین میں شمار ہوتے تھے۔
آپ کے والد، امامِ مجاہد شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، 19 اپریل 1939ء کو شہرِ مشہد میں پیدا ہوئے۔ مشہد، قم اور نجف کے دینی مدارس میں سالہا سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے جوانی ہی سے امام خمینیؒ کی قیادت میں پہلوی حکومت کے خلاف تحریک میں فعال کردار ادا کیا اور انقلابی سرگرمیوں کے باعث متعدد مرتبہ گرفتار اور جلا وطن کیے گئے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے متعدد اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں اسلامی انقلاب کونسل کی رکنیت، اسلامی جمہوری پارٹی کی سیکریٹری جنرل ، سپاہ پاسداران کی قیادت، تہران کے امامِ جمعہ، امام خمینیؒ کے نمائندے کی حیثیت سے سپریم ڈیفنس کونسل کی رکنیت، ایرانی پارلیمنٹ کے پہلے دور میں تہران کے عوام کی نمائندگی، مجلس خبرگانِ رہبری کی رکنیت، دو ادوار تک اسلامی جمهوریه ایران کے صدارت اور بعد ازاں اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت شامل ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ علم، ثقافت، عدل، استقلال، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مظلوم اقوام، خصوصاً فلسطینی عوام کی حمایت پر زور دیا ہے۔ دینی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں آپ کی تصانیف، خطابات اور رہنمائیاں اسلامی فکر کے محققین اور اہلِ علم کے لیے نہایت قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
آخرکار برسوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد، 28 فروری 2026ء کو بیتِ رہبری پر امریکہ اور صہیونی رژیم کی وحشیانہ بمباری کے دوران اپنی صاحبزادی، نواسی، بہو اور داماد کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا جسدِ خاکی تہران، قم، نجف اور کربلا میں شاندار تشییع کے بعد 9 جولائی 2026ء کومشہدِ مقدس میں حرمِ مطہر حضرت امام رضا (ع) کے رواقِ دارالذکر میں سپردِ خاک کیا گیا۔


ایران عراق جنگ میں شرکت

ایران عراق جنگ میں شرکت

آپ نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بالترتیب مشہد اور تہران کے تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں، جب آپ ابھی طالب علم تھے، حق و باطل کی جنگ کے محاذوں کا رخ کیا اور لشکر 27 حضرت رسولؐ کے حبیب بن مظاہر بٹالین میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ لشکر سید الشہداءؑ میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپ نے متعدد فوجی کارروائیوں، بالخصوص آپریشن کربلائے اوّل، میں محاذِ جنگ کی اگلی صفوں میں عملی شرکت کی۔

گمنام مجاهد

بریگیڈیئر جنرل سردار علی فضلی نے اپنے ہمرزموں کے درمیان اپنی شناخت ظاہر نہ ہونے دینے کے بارے میں ان کی تاکید کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ کچھ عرصہ لشکرِ سید الشہداءؑ میں اپنے نہایت محترم بھائی، آقا سید مجتبیٰ، کی معیت میں رہنے کا موقع ملا۔ جب وہ لشکرِ سید الشہداءؑ میں تھے تو انہوں نے مجھے تاکید کی کہ مجھے 'آقای حسینی' (جناب حسینی) کہہ کر مخاطب کیا کریں، کیونکہ ہم یہاں نام و نمود یا فخر و مباہات کے لیے نہیں بلکہ اپنا شرعی اور انقلابی فریضہ ادا کرنے آئے ہیں۔
آقا مجتبیٰ اس سے پہلے لشکر 10 میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ جس عرصے میں وہ لشکرِ سید الشہداءؑ میں موجود رہے، اس دوران ہم نے ان کی بہت سی نمایاں خصوصیات کا مشاہدہ کیا۔ ان کی توقعات دوسرے مجاہدین کے برابر بلکہ ان سے بھی کم ہوتیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے اپنے لیے دوسرے مجاهدوں سے زیادہ کسی سہولت یا چیز کا مطالبہ کیا ہو، بلکہ وہ معمولی ترین امکانات پر بھی قناعت کرتے تھے۔
وہ ہمیشہ کوشش کرتے کہ جہاں خطرہ زیادہ ہو، وہیں موجود رہیں اور محفوظ مقامات پر قیام سے گریز کریں۔ اگلی صفوں کا مسلسل دورہ کرنا، مجاہدین کی خبرگیری کرنا اور محاذِ مقدم پر حاضری دینا ان کے مستقل اصولوں میں شامل تھا۔ وہ مناسب موقع پر مجاہدین کے ساتھ خوش طبعی اور مزاح بھی کرتے تھے، جس سے محاذ پر محبت، اخوت اور حوصلے کی فضا قائم رہتی تھی۔
نماز کی ادائیگی کے حوالے سے بھی ان کی ایک منفرد عادت تھی۔ جب باجماعت نماز کا انتظام نہ ہوتا تو وہ اپنی نماز تنہائی اور خاموشی میں ادا کرنا پسند کرتے۔ وہ ایسے ویران اور تاریک مقامات کا انتخاب کرتے جہاں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی۔ اگرچہ وہاں بہت سے خیمے موجود تھے، لیکن عبادت، دعا اور راز و نیاز کے لیے وہ ہمیشہ دور افتادہ خیموں کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ ان کا مستقل معمول تھا، محض ایک یا دو مرتبہ پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا۔

محاذِ جنگ سے ایک اور یادگار واقعہ

دفاعِ مقدس کے ممتاز کمانڈر، شہید سردار نورعلی شوشتری ایک آپریشن کے دوران آقا سید مجتبیٰ اور ان کے بھائی کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:
میں نے دیکھا کہ آقا سید مجتبیٰ کچھ پریشان ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ انہوں نے اپنے چشمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ ٹوٹ گیا ہے! میں نے کہا: اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا: پریشانی اس لیے ہے کہ کہیں اس آپریشن میں شریک ہونے سے محروم نہ رہ جاؤں، کیونکہ اب بار بار اسی کو درست کرنے میں وقت لگے گا۔
یہ ایک نہایت پیچیدہ آپریشن تھا اور بعض مجاہدین کے گرفتار ہونے کا بھی خدشہ تھا۔ اسی لیے اس میں وہی افراد شریک ہوئے تھے جو سب سے زیادہ جری، پیش قدم اور خطرات مول لینے والے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے خفیہ طور پر کہہ دیا تھا کہ آقا مجتبیٰ کا چشمہ درست نہ کریں تاکہ دوسرے مجاہدین روانہ ہو جائیں اور یہ دونوں پیچھے رہ جائیں۔ لیکن اسی دوران جب میں وائرلیس پر گفتگو اور دیگر امور میں مصروف تھا، انہوں نے کسی طرح ایک پن (سنجاق) کی مدد سے عارضی طور پر اپنا چشمہ درست کر لیا اور محاذ کی طرف روانہ ہوگئے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ انہیں روک سکوں، مگر کامیاب نہ ہو سکا اور وہ آگے بڑھ گئے۔
بعد ازاں میں نے ان کے لشکر کے کمانڈر سے رابطہ کیا اور کہا: یہ دونوں آرہے ہیں، خیال رکھنا کہ انہیں دشمن کی صفیں توڑنے والی ابتدائی کارروائی (خط شکنی) میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔ اگلے روز جب میں علاقے میں پہنچا تو دیکھا کہ یہ دونوں قَشَن کی پہاڑیوں پر، دفاعی مورچوں کے انتہائی اگلے حصے میں موجود ہیں؛ ایسی جگہ جہاں سے زخمیوں کو منتقل کرنا نہایت دشوار تھا اور اسلحہ، گولہ بارود اور خوراک پہنچانا بھی انتہائی مشکل تھا۔ میں نے ہمارے بھائی سردار فضلی سے کہا: جناب فضلی! یہ دونوں انتہائی خطرناک مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی شہادت تو ہمارے لیے مسئلہ نہیں، لیکن اگر خدانخواستہ دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تو تبلیغاتی اعتبار سے یہ ہمارے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔ انہوں نے جواب دیا: میں نے گزشتہ رات انہیں منع کیا تھا، لیکن وہ اپنی رضامندی اور اصرار کے ساتھ خود اس محاذ پر گئے ہیں۔"


حوزوی تعلیم اور اجتہاد

حوزوی تعلیم اور اجتہاد

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی حوزوی تعلیم کا آغاز 1985 میں مدرسہ آیت اللہ مجتہدی، تہران سے کیا۔ بعد ازاں 1989 میں آپ حوزۂ علمیہ قم تشریف لے گئے۔ آپ نے دروسِ سطوحِ عالی حضرات آیات احمدی میانجی،رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذۂ حوزہ کی خدمت میں مکمل کیے۔
1992 سے آپ نے بابِ جہاد کے خارجِ فقہ کے درس میں، جو امامِ مجاہد حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی جانب سے دیا جاتا تھا، شرکت کی۔ اسی طرح آپ نے آیت اللہ حاج شیخ مجتبیٰ تہرانی کے خارجِ فقہ و اصول کے دروس سے بھی استفادہ کیا۔ اسی عرصے میں آپ نے مختلف علمی شعبوں میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، نیز انگریزی زبان کے ایک تخصصی کورس کی بھی تکمیل کی۔

پیرانِ طریقت کی معیت میں

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے 1997 میں شہیدہ زہرا حداد عادل سے شادی کی۔ اسی سال حوزوی تعلیم کی تکمیل اور روحانی فیوض و برکات کے حصول کے لیے دوبارہ قم ہجرت کی، جہاں آپ نے مسلسل سترہ برس تک حضرات آیات وحید خراسانی، شیخ جواد تبریزی، سید موسیٰ شبیری زنجانی اور شیخ محمد مؤمن قمی کے خارجِ فقہ و اصول کے دروس میں شرکت کی۔
آپ کی علمی سرگرمیوں میں عربی زبان میں دروس کے تقریرات مرتب کرنا، درسی مباحث کے علمی نکات کی مسلسل پیروی کرنا، اور اساتذۂ خارج کے ساتھ اشکالات، تنقیدی مباحث اور علمی گفتگو کے ذریعے مسائل کا جائزہ لینا شامل تھا۔ ان علمی کاوشوں نے متعدد ممتاز اساتذۂ حوزہ کی خصوصی توجہ آپ کی جانب مبذول کرائی۔
آپ کی غیر معمولی ذہانت، مسلسل محنت، استقامت، علمی دقت اور فکری آزادی نے علوم و معارفِ حوزوی، بالخصوص فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ رجال کے میدان میں متعدد مضبوط، گراں قدر اور مستحکم علمی نوآوریوں کو جنم دیا۔ اسلامی معارف کے مجموعے میں منظم، مربوط اور مستحکم فکری مبانی سے بہرہ مند ہونا، اور مختلف علمی موضوعات پر اپنی تصنیفی و تحقیقی کاوشوں میں انہی اصولوں کی پابندی کرنا، آپ کی نمایاں علمی خصوصیات اور امتیازات میں شمار ہوتا ہے۔

فقہی مکاتب پر گہری دسترس

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو شیخ اعظم انصاری، آخوند خراسانی، محقق نائینی، آقا ضیاء عراقی، محقق اصفہانی، امام خمینیؒ، آیاتِ عظام بروجردی، خوئی اور شہید صدرؒ کے فقہی و اصولی مکاتب پر گہری دسترس حاصل ہے۔ یہی علمی احاطہ آپ کے پیش کردہ علمی مبانی کو مزید مضبوط، مستحکم اور گراں قدر بناتا ہے۔
آپ کی علمی روش کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ ائمۂ معصومینؑ کے اصحاب کے آثار، قدیم فقہاء کی آراء، اور بالخصوص "ارتکازِ متشرعۂ عصرِ معصوم" کے نظریے کو نہایت اہمیت دیتے ہیں اور اسے شرعی احکام کے استنباط کے عمل میں بنیادی حیثیت کے حامل اصول کے طور پر پیشِ نظر رکھتے ہیں۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کا اکابرِ اخلاق و عرفان سے گہرا اور قریبی تعلق رہا ہے۔ ان بزرگوں میں خصوصاً حضرات آیات بہاء الدینی، بہجت، کشمیری، شیخ جعفر مجتہدی اور دیگر متعدد اہلِ معرفت و معنویت شامل ہیں، جن کی صحبت اور رہنمائی سے آپ نے بھرپور استفادہ کیا۔

تدریس اور علمی و دینی سرگرمیاں

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے تحصیل علم کے دوران ہی فقہ و اصول کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ نے حوزۂ علمیہ تہران میں ابتدائی حوزوی دروس کی تدریس سے اپنی علمی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ایؒ کی اس تاکید کے پیش نظر کہ حوزۂ علمیہ میں علمی تحول ناگزیر ہے اور شہید صدرؒ کی کتب کو فروغ دیا جانا چاہیے، آپ نے معالم کی تدریس موقوف کر کے شہید صدرؒ کی حلقاتِ اصول کی تدریس شروع کی۔
قم مقدس تشریف لانے کے بعد آپ نے بیتِ شریف امام خمینیؒ میں رسائل اورمکاسب کی تدریس کا آغاز کیا، نیز علمِ اصول کی معروف کتاب حلقات بھی پڑھانا شروع کی۔ 2007 میں آپ کے دروس مدرسۂ علمیہ فیضیہ منتقل ہوگئے، جہاں علمی حلقہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔
2008 میں صلاة کے موضوع پر آپ کا خصوصی درسِ خارج ، قم میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ایؒ کے دفتر میں شروع ہوا۔ بعد ازاں 2009 کے آغازِ سالِ تحصیل میں شاگردوں کی درخواست پر آپ نے فقہ کا عمومی اور رسمی درسِ خارج بھی شروع فرمایا۔
ایک سال بعد، 2010 میں آپ کا عمومی درسِ خارجِ اصول بھی باضابطہ طور پر آغاز ہوا، جو مباحثِ اصول کے ابتدائی ابواب سے شروع ہو کر بحثِ استصحاب کے آغاز تک مسلسل جاری رہا۔

روش تدریس

آپ تدریس سے پہلے اپنے علمی مباحث کو باقاعدہ تحریری اور منظم صورت میں مرتب فرمایا کرتے تھے، اور تدریس کے بعد بھی فقہی و اصولی مباحث کو اپنے قلم سے مدون کرتے تھے، جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ آپ کے دروس کی علمی تقریرات بھی کئی سال پہلے بعض شاگردوں نے مرتب کر لی تھیں، لیکن آپ کی عدم رضامندی کے باعث اب تک ان کی عمومی اشاعت نہیں ہو سکی۔ تاہم متعدد بار کے اصرار اور درخواستوں کے بعد یہ تقریرات صرف چند خاص افراد اور حوزۂ علمیہ کے علماء کی دسترس میں رکھی گئی ہیں۔
آپ کی تدریس کی ایک اہم خصوصیت شاگردوں کی علمی تربیت پر خصوصی توجہ اور ان کے علمی اشکالات کو نہایت اہمیت دینا هے۔ درس کے بعد بھی متعدد شاگرد بالمشافہ اور غیر بالمشافہ طویل علمی نشستوں میں اپنے سوالات اور اشکالات پیش کرتے، اور آپ صبر، حوصلے اور خوش دلی کے ساتھ ان کے جوابات عنایت فرماتے تھے۔
آپ کے اسلوبِ تدریس کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ آپ شاگردوں میں تنقیدی فکر کو پروان چڑھانے، قوتِ استنباط کو مضبوط کرنے، اور فقہی مسائل کی علمی تحقیق و پیش کش کے لیے ان کی عملی تربیت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔

درسِ خارج کا سلسلہ موقوف ہونا

تعلیمی سال2022 کے آغاز میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے درسِ خارج میں ۱۳۰۰ سے زائد افراد نے اندراج کرایا تھا۔ ایسے حالات میں نئے تعلیمی سال کے پہلے ہی درس میں آپ کی جانب سے درس کی تعطیلی کا اعلان تمام شاگردوں اور دیگر حاضرین کے لیے نہایت حیرت اور ششدر رہ جانے کا سبب بنا۔
اس کے بعد آپ کو اپنے اس فیصلے سے منصرف کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ چنانچہ قم کے ایک ہزار طلبہ اور اساتذہ نے ایک خط کے ذریعے آیت الله العظمی شهید سید علی خامنه ای (أعلی اللہ مقامہ الشریف) کی خدمت میں آپ کے درس کے دوبارہ آغاز کی درخواست پیش کی، جبکہ قم کے بعض جلیل القدر علماء نے بھی زبانی طور پر یہی خواہش ظاہر کی۔
تاہم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بعض قدیم شاگردوں سے ملاقات کے دوران فرمایا کہ درس کی تعطیلی کی وجہ ایک ایسا روحانی اور معنوی معاملہ ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے مزید تاکید فرمائی کہ کرونا کے بعد کے حالات میں، جب حوزۂ علمیہ کے بہت سے ممتاز اساتذہ کے دروس یا تو کم رونق ہو گئے ہیں یا بالکل موقوف ہو چکے ہیں، ایسے میں آپ کا درس اتنی بڑی تعداد میں منعقد ہونا مناسب نہیں۔ اسی بنا پر آپ نے حاضرین سے درخواست کی کہ درس کے دوبارہ آغاز کے لیے عوامی اور ذاتی مطالبات کا سلسلہ بند کر دیں۔
آپ نے انہی شاگردوں سے یہ بھی فرمایا:
"درس میں شریک طلبہ اور فضلاء کو دوسرے اساتذہ کے دروس کی طرف رہنمائی کریں۔"
اور مزید ارشاد فرمایا کہ ایک مثالی استاد کے لیے علمی صلاحیت، انقلابی فکر، اور نفسانی پاکیزگی (سلامتِ نفس) بنیادی اور ضروری اوصاف میں شمار ہوتے ہیں۔

علمی مراکز اور فقہی مدارس کا قیام

ابتدائی طور پر عدم آمادگی ظاہر کرنے کے بعد، احباب کے اصرار اور رہبرِ شہیدِ انقلاب کی اس ہدایت پر کہ آپ عروۃ الوثقیٰ پر حاشیہ تحریر کریں، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی علمی سرگرمیوں کو اسی کام نیز اپنے فقہی و اصولی دروس کی تدوینِ نو پر مرکوز کر دیا۔
دوسری جانب، رہبرِ شہیدِ انقلاب کے مطلوب اصلاحی و ارتقائی نقطۂ نظر کے مطابق حوزۂ علمیہ قم میں فقاہت کے نظام کو مضبوط بنانے کی فکر نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مختلف علمی ذوق اور فقہی مناہج رکھنے والے انقلابی فقہی اداروں اور مراکز کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ، خود بھی متعدد علمی مراکز اور فقہی مدارس قائم کریں۔
مزید برآں، علمی مسائل پر گہری توجہ، معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس، اور بالخصوص محروم طبقات کی خدمت کے جذبے نے ان مدارس میں ایک جامع تربیتی نظام کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں آج مخلص، انقلابی اور عوام دوست مؤمن افراد کی ایک نمایاں جماعت تربیت پا چکی ہے۔
حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی یہ غیر معمولی احتیاط اور باریک بینی کہ ان کی اپنی ذات کسی بھی صورت محور نہ بنے، نیز حوزۂ علمیہ کی تقویت اور انقلابی حوزوی تحریک کے استحکام پر ان کا مسلسل اصرار، اسی طرح ٰ امام خمینیؒ اور آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ایؒ کی بے مثال شخصیت اور ان کے فکری مکتب کو مرکزی حیثیت دینے پر زور، اور عام طور پر پیدا ہونے والی شخصی و ادارہ جاتی رقابتوں سے اجتناب، ان تمام امور نے بہت سے اکابر علماء کی تحسین حاصل کی ہے۔ اسی کے نتیجے میں اساتذہ اور فضلاء کی ایک وسیع تعداد نے ان علمی مراکز اور فقہی مدارس کی جانب بھرپور رغبت اور وابستگی کا اظہار کیا ہے


اخلاقی و انتظامی طرزِ عمل

اخلاقی سیرت

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والدِ گرامی کی خصوصی شفقت اور توجہ سے بہرہ مند تھے، اور اخلاق، عرفان اور تقویٰ کے مدارج میں ہمیشہ ان کی رہنمائی اور سرپرستی میں پرورش پاتے رہے۔ اس سلسلے میں وہ عبارت، جو رہبرِ شہیدِ انقلاب نے اپنے فرزند کو بطورِ ہدیہ پیش کی گئی ایک کتاب کے آغاز میں اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمائی تھی، ان کی اس خصوصی عنایت کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔
بسمہ تعالیٰ
یہ گراں قدر کتاب میں اپنے عزیز نورِ چشم مجتبیٰ حسینی کو ہدیہ کرتا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے، انہیں اپنی ہدایت سے نوازے، ان کے قدموں کو ثابت قدم اور لغزش سے محفوظ رکھے، اور انہیں گفتار و کردار کی خطاؤں اور لغزشوں سے اپنی حفاظت و عصمت میں رکھے۔
اللہ کا ادنیٰ بندہ علی حسینی خامنہ ای
آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ہمیشہ اپنے فرزندوں کو دنیاوی آسائشوں اور مادی وابستگیوں سے دور رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ اسی بنا پر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے سادہ طالبِ علمانہ زندگی کو اپنا شعار بنایا۔ مزید برآں، قم اور تہران میں تعلیم و تدریس کے تمام برسوں کے دوران انہوں نے ہمیشہ حتیٰ الامکان گمنامی اختیار کرنے اور شہرت و نمود سے دور رہنے کی کوشش کی۔

انتظامی طرزِ عمل

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ کئی برسوں سے آیت الله خامنه ای کی خدمت میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ کبھی آپ ان کے احکامات کے نفاذ کے لیے نمائندہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے تھے اور کبھی قیادت اور سیاسی، عسکری، ثقافتی، اقتصادی اور دیگر ریاستی اداروں و ذمہ داران کے درمیان رابطے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ رہبرِ شہیدِ انقلاب کے تمام فرزند کسی سیاسی جماعت وابستہ نہیں تھے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ رہبرِ شہید اپنی قیادتی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں اپنے فرزندوں، خصوصاً آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی سیاسی اور سماجی صلاحیتوں سے استفادہ نہ کرتے ہوں۔
سیاسی میدان، عسکری ذمہ داران اور اہم سیاسی شخصیات سے روابط کے سلسلے میں رہبرِ شہید اپنے فرزند آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی خدمات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ البتہ اس کا مطلب یه نهیں تھا کہ وہ ملکی امور میں مستقل یا الگ حیثیت سے مداخلت کرتے تھے، بلکہ وہ ان امور میں اپنے والدِ گرامی کے ایک معتمد معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے۔
اسی ذمہ داری کے باعث آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ بیس سے زائد برسوں کے دوران ملک کے متعدد سیاسی، عسکری اور انتظامی معاملات سے قریب سے آگاہ رہے اور اپنے والدِ شہید کے بہت سے فیصلوں، انتخابوں اور اہم امور میں ایک عینی شاہد، قابلِ اعتماد رفیق اور امین مشیر کے طور پر ان کے ہمراہ رہے۔
جو افراد رہبرِ شہیدِ انقلاب کے طرزِ انتظام سے قریب سے واقف ہیں، وہ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے فرزند، ملکی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے، اپنے والدِ شہید کے لیے دیانت دار معاون، قابلِ اعتماد مشیر اور مخلص خدمت گزار کی حیثیت سے ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے۔

ملک کے اہم اور کلیدی معاملات پر گہری نظر

ملک کے کلیدی امور پر گہری نظر، اعلیٰ حکومتی ذمہ داران سے قریبی روابط، مختلف ادوار میں متعدد اہم مشاورتی و انتظامی نشستوں میں شرکت، مختلف علمی شعبوں میں وسیع مطالعہ، اہلِ فکر و دانش کے ساتھ مسلسل تبادلۂ خیال، اور حکمرانی کے چھوٹے اور بڑے مسائل کے بارے میں بنیادی اور مؤثر حل تک رسائی نے حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو انقلابِ اسلامی کی قیادت کے لیے ایک گراں قدر علمی و عملی سرمایہ فراہم کیا ہے۔
عسکری کمانڈروں اور محاذِ مقاومت کے قائدین، خصوصاً سید الشہداءِ مقاومت، شہید سید حسن نصر اللہ اور سردارِ شہید حاج قاسم سلیمانی کے ساتھ مسلسل اور قریبی روابط بھی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہیں۔
ان تمام عوامل کے باعث امریکہ اور صہیونی رژیم کی آپ سے دیرینہ اور گہری دشمنی رہی ہے، جس کے نتیجے میں آپ کی شخصیت کو بدنام کرنے، جسمانی طور پر آپ کو نشانہ بنانے، اور مختلف قسم کی زبانی و عملی دھمکیوں کے ذریعے آپ کے اسلامی نظام کی قیادت کے لیے انتخاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مسلسل کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حضرت امامِ زمانؑ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عنایت و توجہ سے اب تک یہ تمام معاندانہ اقدامات ناکام رہے ہیں۔


اسلامی نظام کی قیادت

اسلامی جمهوریه ایران کی قیادت

آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی 28 فروری 2026 کو امریکہ اور صہیونی رژیم کے ذریعه بیتِ رہبری پر وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہادت کے بعد، مجلسِ خبرگانِ رہبری نے بھاری اکثریت سے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریۂ ایران کا تیسرا رہبر منتخب کیا۔
اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے بعد، انہوں نے انقلابِ اسلامی کے آرمانوں کے تحفظ، قومی اتحاد کے استحکام، ملک کی آزادی و خودمختاری، علمی و ثقافتی ترقی، سماجی انصاف، اور دنیا بھر کے مظلوم اقوام کی حمایت پر زور دیا۔ نیز انہوں نے اتحاد، یکجہتی اور استقامت کی دعوت دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ اسلامی نظام کی رہنمائی آئینِ اسلامی جمہوریۂ ایران اور اسلامی اقدار کی بنیاد پر جاری رہے گی۔

“Knowledge, faith, and perseverance build civilizations.”
English